روبینہ دلیک کی چار سال بعد Khatron Ke Khiladi 15 میں واپسی، ماں بننے کے تجربے پر کھل کر بات
اداکارہ نے بتایا کہ اس بار “ہاں” کہنے میں تقریباً تین مہینے لگے، کیونکہ اب ہر فیصلہ بچوں کو دیکھ کر کیا جاتا ہے
جاننا ضروری ہے
- روبینہ دلیک (Rubina Dilaik) 2022 کے بعد ایک بار پھر Khatron Ke Khiladi کا حصہ بنی ہیں، اور یہ سیزن 15 ہے۔
- اداکارہ کے مطابق شو میں واپسی کا فیصلہ کرنا اس بار آسان نہیں تھا کیونکہ ہر بات بچوں کو مدنظر رکھ کر سوچی جاتی ہے۔
- روبینہ نے کہا کہ اسٹنٹس سے زیادہ ان کا سب سے بڑا خوف بچوں سے دور رہنا تھا۔
روبینہ دلیک ایک بار پھر Khatron Ke Khiladi کی اسکرین پر نظر آنے والی ہیں۔ چار سال کے وقفے کے بعد اداکارہ نے سیزن 15 میں شمولیت اختیار کی ہے، اور اس بار کہانی پہلے سے کہیں زیادہ ذاتی ہے۔
روبینہ نے 2022 میں یہ شو کیا تھا، اور اب 2026 میں دوبارہ واپسی کی۔ مگر اس بار “ہاں” کہنا اتنا آسان نہیں تھا۔ اداکارہ نے بتایا کہ فیصلہ کرنے میں تقریباً تین مہینے لگ گئے، کیونکہ اب ان کی زندگی کا ہر فیصلہ بچوں سے جڑا ہوتا ہے۔
ماں بننے کے بعد وہ خود کو جانچنا چاہتی تھیں کہ وہ ایک انسان کے طور پر کتنا بدل چکی ہیں۔ روبینہ کے مطابق ان کا سب سے بڑا خوف اسٹنٹس نہیں تھے، بلکہ اتنا لمبا عرصہ بچوں سے دور رہنا تھا۔ اپنے تجربے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
“This journey helped me rediscover my strength, resilience, and the way I deal with fear today” — یعنی اس سفر نے انہیں دوبارہ اپنی طاقت، ثابت قدمی اور خوف کا سامنا کرنے کے نئے انداز سے متعارف کرایا۔
روبینہ نے یہ بھی بتایا کہ ماں بننا انسان کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایسی طاقت بھی دیتا ہے جس کا احساس خود کو بھی نہیں ہوتا۔ اس سارے سفر میں ان کے شوہر ابھینو شکلا کا ساتھ بھی اہم رہا۔ روبینہ کے مطابق ابھینو مسلسل حوصلہ دیتے رہے اور یاد دلاتے رہے کہ ایسے مواقع بار بار نہیں ملتے۔
جب پوچھا گیا کہ کیا ماں بننے سے ان کے اسٹنٹس کرنے کے انداز پر بھی فرق پڑا، تو روبینہ نے تفصیل سے جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ Khatron Ke Khiladi صرف جسمانی طاقت کا امتحان نہیں، بلکہ ذہنی مضبوطی، ہمت اور عزم کی بھی آزمائش ہے۔ اس بار ہر چیلنج کا سامنا انہوں نے پہلے سے کہیں زیادہ صبر، اعتماد اور اندرونی مضبوطی کے ساتھ کیا۔
تیاری کے سوال پر روبینہ کافی صاف گو رہیں۔ انہوں نے مانا کہ بچوں اور کام کے درمیان اس بار کوئی خاص فزیکل تیاری کرنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ ان کے بقول کوئی بھی ٹریننگ انسان کو Khatron Ke Khiladi کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں کر سکتی، اصل چیلنج ذہنی ہوتا ہے۔ جیسے ہی کوئی کسی بلند عمارت کی چھت پر کھڑا ہوتا ہے یا کوئی ایسا اسٹنٹ سامنے آتا ہے جس کا کبھی تصور بھی نہ کیا ہو، تب ذہنیت ہی سب کچھ سنبھالتی ہے۔
ریئلٹی شوز روبینہ کے لیے نئی بات نہیں۔ چار سال پہلے یہی شو کر چکی ہیں، مگر اس بار واپسی نے انہیں احساس دلایا کہ وہ کتنی بدل چکی ہیں۔ ان کے مطابق اگر وہ ویسی ہی شخصیت کے ساتھ لوٹتیں جیسی پہلے تھیں، تو ناظرین کے لیے نیا کچھ نہ ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سیزن ان کی ذاتی ترقی کا آئینہ بن گیا ہے۔
شو کے میزبان روہت شیٹی کے ساتھ کام کرنے کے تجربے پر بھی روبینہ نے بات کی۔ ان کے مطابق روہت شیٹی ایک شاندار مینٹور ہیں اور بھارت کے بہترین ریئلٹی شو میزبانوں میں سے ایک ہیں۔ روبینہ کا کہنا تھا کہ روہت میں شرکاء کو ان کی صلاحیت سے کہیں آگے لے جانے کی خاص صلاحیت ہے، اور کئی مواقع پر ان کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے ہی بہتر پرفارمنس ممکن ہو سکی۔
یاد رہے کہ Khatron Ke Khiladi ہر سیزن میں مقبولیت حاصل کرتا رہا ہے، اور اس شو کی خاصیت یہی رہی ہے کہ یہ سیلیبرٹیز کے کیمرے کے پیچھے والے حقیقی رخ کو سامنے لاتا ہے۔ روبینہ کا یہ سیزن بھی اسی روایت کی ایک کڑی ثابت ہو رہا ہے، جہاں شہرت سے زیادہ ذاتی کہانی نے توجہ حاصل کی۔
روبینہ کا یہ سفر اب مکمل ہو چکا ہے، اور اداکارہ نے اسے ایک ایسا تجربہ قرار دیا ہے جسے وہ ہمیشہ یاد رکھیں گی۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ Khatron Ke Khiladi Season 15 کے حتمی نتائج میں روبینہ کہاں تک پہنچتی ہیں۔