ارشد ندیم (Arshad Nadeem) کامن ویلتھ گیمز جیولن فائنل میں ناکام، سری لنکن ایتھلیٹ نے گولڈ میڈل جیت لیا
دفاعی چیمپئن ارشد ندیم صرف تین تھرو کے بعد مقابلے سے باہر ہو گئے، جبکہ نیرج چوپڑا نے سلور میڈل حاصل کیا۔
جاننا ضروری ہے
- پاکستان کے اولمپک چیمپئن ارشد ندیم گلاسگو میں کامن ویلتھ گیمز کے جیولن فائنل سے حیران کن طور پر باہر ہو گئے۔
- سری لنکا کے رومیش تھرنگا پتھیراج نے 89.75 میٹر تھرو کے ساتھ سری لنکا کے لیے ایتھلیٹکس کا پہلا گولڈ میڈل جیت لیا۔
- بھارت کے نیرج چوپڑا نے 85.83 میٹر کے سیزن بیسٹ کے ساتھ سلور، جبکہ ان کے ہم وطن یش ویر سنگھ نے برانز میڈل جیتا۔
آرٹیکل باڈی
پاکستان کے اسٹار جیولن تھرورز ارشد ندیم کو کامن ویلتھ گیمز کے فائنل میں ایک ایسا دھچکا لگا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ گلاسگو کے اسکاٹسٹون اسٹیڈیم میں ہونے والے مقابلے میں دفاعی چیمپئن صرف تین تھرو کے بعد ہی مقابلے سے باہر ہو گئے۔
موسم بھی اس شام خاصا خراب تھا، تیز ہوائیں چل رہی تھیں، اور یہی وجہ رہی کہ کئی بڑے کھلاڑی اپنی صلاحیت کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکے۔ ارشد ندیم، جو پیرس 2024 اولمپکس کے گولڈ میڈلسٹ بھی ہیں، اس بار اپنے پرانے فارم کو دہرا نہ سکے اور جلد ہی مقابلے سے باہر ہو گئے۔
جیولن کا گولڈ میڈل آخرکار سری لنکا کے 23 سالہ رومیش تھرنگا پتھیراج کے نام رہا، جنہوں نے اپنے ملک کے لیے ایتھلیٹکس کی تاریخ میں پہلا گولڈ میڈل جیت کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پتھیراج نے اپنے پہلے پانچ تھرو میں سے صرف ایک ہی درست انداز میں کیا، مگر وہی ایک تھرو انہیں چیمپئن بنانے کے لیے کافی ثابت ہوا۔ ان کا فاصلہ 89.75 میٹر رہا۔
بھارت کے نیرج چوپڑا کے لیے یہ سال زخموں سے بھرا رہا تھا، مگر انہوں نے اس مشکل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 85.83 میٹر کے سیزن بیسٹ تھرو کے ساتھ سلور میڈل اپنے نام کیا۔ ان کے ساتھی کھلاڑی یش ویر سنگھ نے بھی شاندار کارکردگی دکھائی اور 85.41 میٹر کے پرسنل بیسٹ کے ساتھ برانز میڈل جیت لیا۔
فائنل میں شامل پانچ کھلاڑیوں کا کیریئر میں 90 میٹر سے زیادہ تھرو کرنے کا ریکارڈ موجود تھا، جن میں ورلڈ چیمپئن کیشورن والکاٹ بھی شامل تھے۔ ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کے اس اسٹار کھلاڑی کو بھی اپنے پہلے پانچ تھرو میں مشکلات کا سامنا رہا اور آخری تھرو میں صرف 82.55 میٹر کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہے۔
پتھیراج کی کہانی خود بھی کسی کھیل کی فلم سے کم نہیں۔ وہ ابتدا میں کرکٹ میں فاسٹ بولر تھے اور نوعمری میں ہی 134 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکنے کا ریکارڈ رکھتے تھے۔ اگرچہ یہ رفتار پاکستان کے مایہ ناز فاسٹ بولر شعیب اختر کے عالمی ریکارڈ 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کہیں کم ہے، جنہیں ‘راولپنڈی ایکسپریس’ کے نام سے جانا جاتا ہے، مگر پتھیراج کا کرکٹ سے جیولن کی طرف آنا سری لنکن کھیلوں کے لیے ایک بڑا فائدہ ثابت ہوا۔
اب سب کی نظریں اگلے سال ہونے والے بڑے ایونٹس پر ہیں، جہاں ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا کی روایتی مدمقابلی ایک بار پھر دیکھنے کو ملے گی۔ فی الحال پاکستانی کھیلوں کے حلقوں میں ارشد ندیم کی اس ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور دیکھنا ہوگا کہ وہ اگلے مقابلوں میں کس طرح واپسی کرتے ہیں۔